SHAYRI



  • جس کہ چہرے پے نور ہوتا ہے وہ حرامی ضرور ہوتا ہے جو پیڑ تھے گھنیرے وہ مٹا دیے ہیں اور اونچے اونچے پودے لا کر لگادیے ہیں لپٹس پہ اب بندھے گا جھنڈا نیاہمارا سارے جہاں سے اچھاّ ہندوستاں ہمارا
  • جب بھی انسان کی خالق پہ نظر جائیگیے زلف انسان کی بکھری ہے سنور جائیگی جب ہسی پھول کی حدسے گذرجائیگی پتی پتی گلی کونچوں میں بکھرجائیگی بند کرویہ ڈھونگ کی بھکتی بول رہی ہے آخری شکتی تیرے دامن پہ اگر ایک بھی دھبہّ ہوگا زندگی تو میری نظروں سے اترجائیگی
  • کتنی پیاری زباں دل عدو آق تھو کیا چمن اور کیا رنگ و بو جس کے بدلے میں گروی پڑا ہوضمیر ایسی عشرت پہ سو بار آق تھو دامن علم فن اور پھیلا ہوا کیا زباں اور کیا گفتگوں آق تھو خشک آنکھوں سے اظہار وفا جیسے سجدہ کوئ بے وظو آق تھو جس میں ہو عظمت دائمی کا لہو بھاڑ میں جائے ایسی آبرو آق تھو
  • یک دل سینکڑوں ستم ا’وف فو پھر بھی زندہ ہیں ہم اوف فو اب تو سانسیں پناہ مانگے ہیں اس قدر بارش ستم ا’ف فو اس قدر زندگی میں ناکامی گام در گام دم بدم ا’ف فو راستے بھی ا’داس لگتے ہیں آگئے ہیں کہاں سے کہاں ہم ا’وف فو عظم پختہ بھی ٹوٹ جاتا ہے کتنی پختہ ہے موج غم ا’وف فو
  • خوب قسمت ہے مہرباں عیق خیں حور کے ساتھ ہوں میاں عیق خیں ہم توسمجھے تھے جانے کیا ہوگا آپ ہیں میر کارواں عیق خیں یہ تو منظر عجیب لگتا ہے آپ اور ہم پہ مہرباں عیق خیں
  • یہ عشق وشق خواب ہے لو کرلوکیا کرو اب ان کایہ جواب ہے لوکرلو کیا کرو ی ان کی بھی گالیوں نہیں دور تک جوابسہ میری بھی چپ کتاب ہے لو کر لو کیا کرو روح وفا کو زخم دےئے جس نے دم بدم اب وہ ہی کامیاب ہیں لو کر لو کیا کرو اہل وفا کو چھوڑ کے قاتل کو چن لیا کیا خوب انتخاب ہے لو کرلو کیا کرو ہر کو ئ اپنے آپ میں سب سے حسین ہے ہر کوئ لاجواب ہے لوکر لو کیاکرو
  • زندگی آج میں سمجھا ہوں حقیقت تیری با خدا آج سے آرام کی ایسی تیسی میں نے ہر حال میں جینے کی قسم کھائ ہے میرے آگے غموں آلام کی ایسی تیسی مجھ کو حاصل ہے زمانے میں لچکنے کی ادا میرے آگے دل ناکام کی ایسی تیسی
  • قسمت میں بے ضمیر کے دو آسرے مجید خدّار کے نصیب میں دو دھکّے فالتو خوش حال کے لےئے ہیں میاں ساری رونقیں نادار کے نصیب میں دو دھکّے فالتو موسم کی مار جھیلے یا پرہیز کی سہے بیمار کے نصیب میں دو دھکّے فالتو
  • اپنا مفاد چھوڑ دے پھر فیصلے میں گھس خود میں گھسا پھرے ہے کبھی دوسرے میں گھس آیا بڑا ٹٹولنے عیب و ہنر میرے پہلے تو خود میں جھانک لے پھر دوسرے میں گھس